بنگلورو، 15؍فروری ( ایس او نیوز ) ایسے مرحلہ میں جبکہ کرناٹک میں ریزرویشن کا معاملہ گرما گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے سابق وزیر ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن انڈر سدارامیا سے ریزرویشن کے معاملہ میں سنگھ پریوارسماج میں نفرت پھیلا نے کی کوشش کررہا ہے۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ سنگھ پریوار اب تک ریزرویشن کی مخالفت کرتا رہا ہے ۔ اب اچانک اس کی ریزرویشن کی حمایت میں ااحتجا جات کو ہوا دے رہا ہے اوران کی سر پرستی کررہا ہے، اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ سماج میں انتشار پھیلا نے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہو ں نے کہا اب تک بی جے پی قائد کی طرف سے ریزرویشن کی مخالفت کی جاتی رہی اور ان کی تمام سیاست کا دارومدار اسی پر رہا ، اب اچانک ان کی طرف سے ریزرویشن کی تائید محض اس لئے کی جارہی ہے کہ اس کا سیاسی استحصال کیا جائے اور اس معاملہ میں سماج کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ریزرویشن کی حمایت میں اگر بی جے پی کے قائد ین میں واقعی بیداری آچکی ہے تو خوش آئند ہے۔ لیکن ایسا نہیں لگتا بلکہ جس طرح سے ریزرویشن کے مسئلہ کو چھیڑا جارہا ہے اس سے محسوس ہورہا ہے کہ ایک طبقہ کی طرف سے ریزرویشن کے لئے شروع کی گئی تحریک کو کمزور کرنے کے لئے ایک اور طبقہ کو بھڑکا یا جارہا ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ وہ لوگ جو منڈل کمیشن سفارشات کے تحت پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دیئے جانے کے خلاف خود کو زندہ جلانے پر آمادہ ہوگئے اب وہ ریزرویشن کے خائل کیسے ہوگئے ؟ ۔ جو اعلیٰ تعلیمات میں پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دینے کی مخالفت کرتے ہوئے سڑکوں پر اترے تھے وہ اب کیوں بدل گئے ہیں۔ بلدی اداروں میں ریزرویشن کا چیلنج کرنے والے رما جوائس کا تعلق کس پارتی سے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ریزرویشن کی راست طور پر مخالفت کرنے میں ناکام سنگھ پریوار اب اس کے نام پر مختلف طبقات میں آگ بڑھ کا کر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش میں لگ گیا ہے۔ بھولے بھالے عوام کو ان کے جال میں نہیں آنا چاہئے بلکہ اپنے حقوق کو منوانے کے لئے تحریک اپنے دم پر چلانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ریزرویشن معاملہ میں سنگھ پریوار کا موقف یہ تھا کہ ذات پات جہنم ہے اور دھمر ہی جنت۔ اب وہ ذات پات کی سیاست کیوں کررہا ہے۔ ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے جلسوں کی سرپرستی آر ایس ایس کی طرف سے کیوں کی جارہی ہے۔